فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی
سنٹرل ایکسائز ایکٹ، 1944 کو منسوخ کرکے یکم جولائی 2005 سے فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005 نافذ کیا گیا ۔ نئے ایکٹ کے تحت درج ذیل اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:
• لفظ "مرکزی " کی جگہ "وفاقی استعمال کیا گیا۔ لہٰذا اب "فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی" کی اصطلاح "سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی" کے مقابلہ میں زیادہ موزوں ہے جیسا کہ 2005 کے ایکٹ کے تحت نافذ کردہ ڈیوٹیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
• عملی نگرانی کا نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور اب تمام کلیئرنس خود تشخیصی بنیاد پر ہوگی۔ کلیئرنس کے لیے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
• ڈیوٹی کی ادائیگی ماہانہ بنیاد پر کی جائے گی، اور کسی بھی مہینے کی تمام کلیئرنسز پر ڈیوٹی اگلے مہینے کی 15 تاریخ تک ادا کرنا ہو گی۔ یہ پچھلے نظام سے مختلف ہے جہاں کلیئرنس سے پہلے ہی ڈیوٹی ادا کرنا لازمی تھا۔
• اب کلیئرنس کے لیے گیٹ پاس کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ پرانے نظام میں تھا۔
• دوہرے ٹیکسیشن کو ختم کرنے کے لیے یہ اجازت دی گئی ہے کہ جو اشیاء ایکسائز ایبل مصنوعات کی تیاری میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہیں، ان پر ادا کردہ ایکسائز ڈیوٹی کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔
• کچھ اشیاء اور خدمات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کے طریقہ کار کے مطابق عائد کی جاتی ہے، جیسا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 میں بیان کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے لیے 'Goods/Services Liable to Excise Duty' کے لنک کا حوالہ دیا گیا ہے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی درج ذیل پر لاگو ہوتی ہے:
(a) پاکستان میں تیار یا بنائی گئی اشیاء؛
(b) پاکستان میں درآمد کی گئی اشیاء؛
(c) ایسی اشیاء جو نان-ٹیرف ایریاز میں تیار کی گئی ہوں اور ٹیرف ایریاز میں فروخت یا استعمال کے لیے لائی جائیں (جیسا کہ حکومتِ پاکستان بذریعہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں بیان کرے)؛
(d) پاکستان میں فراہم کی جانے والی خدمات۔
اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی
مالی سال8- 2007 کے بجٹ اقدامات کے تحت، پاکستان میں تیار یا درآمد کی گئی اشیاء پر1 فیصد اسپیشل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ یہ ڈیوٹی فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005 کے پہلے شیڈول میں درج عمومی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے علاوہ ہوگی۔ان اشیاء کی فہرست جو اس اسپیشل ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہیں، اور دیگر تفصیلات کے لیے SRO 655(I)/2007 ملاحظہ کریں۔

